مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ قَضَاءِ الْحَوَائِجِ باب: حاجت ہوری کرنے کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فِي الدُّنْيَا فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ سَتَرَ عَوْرَةَ مُسْلِمٍ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَاللَّهُ فِي حَاجَةِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي الْكَبِيرِ طَرَفٌ مِنْ آخِرِهِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص دنیا میں کسی مسلمان سے پریشانی کو دور کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کر دے گا ، اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص کی پردہ پوشی کرے گا ، اور اللہ تعالیٰ بندے کی حاجت روائی کرتا رہتا ہے ، جب تک بندہ اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں مشغول رہتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر میں اس کا آخری حصہ مذکور ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن زحر ہے جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔