مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ قَضَاءِ الْحَوَائِجِ باب: حاجت ہوری کرنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 13709
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كَانَ وَصْلَةٌ لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ فِي مَبْلَغِ بِرٍّ أَوْ تَيْسِيرِ عَسِيرٍ ، أَعَانَهُ اللَّهُ عَلَى إِجَازَةِ الصِّرَاطِ عِنْدَ دَحْضِ الْأَقْدَامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامٍ النَّسَائِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ . ¤محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے معاملے کو متعلقہ حاکم تک پہنچاتا ہے ، جس میں ( اس بھائی ) کو کوئی بہتری مل رہی ہو ، یا کوئی مشکل آسان ہو رہی ہو ، تو اللہ تعالیٰ پل صراط سے گزرتے وقت جب لوگوں کے قدم ڈگمگا رہے ہوں گے ، اس شخص کی مدد کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ہشام نسائی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔