حدیث نمبر: 13708
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ، وَأَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ ، وَأَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ سُرُورٌ تُدْخِلُهُ عَلَى مُسْلِمٍ ، أَوْ تَكْشِفُ عَنْهُ كُرْبَةً ، أَوْ تَقْضِي عَنْهُ دَيْنًا ، أَوْ تَطْرُدُ عَنْهُ جُوعًا ، وَلَأَنْ أَمْشِيَ مَعَ أَخٍ لِي فِي حَاجَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتَكِفَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ شَهْرًا فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ، وَمَنْ كَفَّ غَضَبَهُ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ ، وَمَنْ كَظَمَ غَضَبَهُ وَلَوْ شَاءَ أَنْ يُمْضِيَهُ أَمْضَاهُ ، مَلَأَ اللَّهُ قَلْبَهُ رَخَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ مَشَى مَعَ أَخِيهِ فِي حَاجَةٍ حَتَّى تَتَهَيَّأَ لَهُ ثَبَّتَ اللَّهُ قَدَمَهُ يَوْمَ تَزُولُ الْأَقْدَامُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ سُكَيْنُ بْنُ سِرَاجٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں کون زیادہ محبوب ہے ؟ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعمال میں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں میں ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے ، جو لوگوں کے حق میں سب سے زیادہ نفع بخش ہو ، اور اعمال میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ خوشی ہے ، جسے تم کسی مسلمان پر داخل کرتے ہو ، یا کسی مسلمان سے تم کوئی تکلیف دہ چیز دور کر دیتے ہو ، یا تم اس کا قرض ادا کر دیتے ہو ، یا اس سے بھوک کو پرے کر دیتے ہو ، میں اپنے کسی بھائی کے ساتھ اس کے کسی کام کے سلسلے میں چل کے جاؤں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اس مسجد میں ، یعنی مسجد نبوی میں ایک ماہ تک اعتکاف کروں ، اور جو شخص اپنے غضب کو روک لیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے پوشیدہ معاملات کی پردہ پوشی کرتا ہے ، جو شخص اپنے غصے کو پی لیتا ہے ، ایسی صورت میں جبکہ اگر وہ چاہے ، تو اسے دکھا سکتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دل کو خوشحالی سے بھر دے گا اور جو شخص اپنے بھائی کے ساتھ اس کے کسی کام کے سلسلے میں چل کے جاتا ہے ، یہاں تک کہ اس کا وہ کام کروا دیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس دن اس شخص کے پاؤں کو ثابت قدم رکھے گا ، جب لوگوں کے پاؤں پھسل رہے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسکین بن سراج ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13708
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (861) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13646)»