مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ وَالْعَفْوِ عَمَّنْ ظَلَمَ باب: عمدہ اخلاق کا بیان اور زیادتی کرنے والے کو معاف کرنا
حدیث نمبر: 13692
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى خَيْرِ أَخْلَاقِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ؟ مَنْ وَصَلَ مَنْ قَطَعَهُ ، وَعَفَا عَمَّنْ ظَلَمَهُ ، وَأَعْطَى مَنْ حَرَمَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ السُّحَيْمِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . وَرَوَاهُ مُرْسَلًا وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہاری رہنمائی دنیا اور آخرت کے بہتر اخلاق کی طرف نہ کروں ؟ وہ شخص کہ جو اس فرد کے ساتھ تعلق رکھے ، جو اس کے ساتھ لاتعلقی اختیار کرے ، اور اس سے درگزر کرے ، جو اس کے ساتھ زیادتی کرے ، اور اُسے دے ، جو اسے محروم رکھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر سحیمی ہے اور وہ متروک ہے ۔ انہوں نے اسے مرسل روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔