حدیث نمبر: 13652
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشِرَارِكُمْ ؟ " . قَالُوا : بَلَى إِنْ شِئْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّ شِرَارَكُمُ الَّذِي يَنْزِلُ وَحْدَهُ ، وَيَجْلِدُ عَبْدَهُ ، وَيَمْنَعُ رِفْدَهُ " . قَالَ : " أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَلِكَ ؟ " . قَالُوا : بَلَى إِنْ شِئْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " مَنْ يُبْغِضُ النَّاسَ وَيُبْغِضُونَهُ " . قَالَ : " أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَلِكَ ؟ " . قَالُوا : " بَلَى إِنْ شِئْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " الَّذِينَ لَا يُقِيلُونَ عَثْرَةً ، وَلَا يَقْبَلُونَ مَعْذِرَةً ، وَلَا يَغْفِرُونَ ذَنْبًا " . قَالَ : " أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَلِكَ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَنْبَسُ بْنُ مَيْمُونٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں ، تمہارے برے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! اگر آپ چاہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے برے لوگ وہ ہیں جو اکیلے پڑاؤ کرتے ہیں ، اپنے غلام کو کوڑے مارتے ہیں اور مہمان کو منع کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ برے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جی ہاں ! اگر آپ چاہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ شخص ، جو لوگوں سے بغض رکھے اور لوگ اُس سے بغض رکھیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ برے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! اگر آپ چاہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ جو لغزش کو چھوڑتے نہیں ہیں ، معذرت کو قبول نہیں کرتے ہیں ، اور گناہ کو بخشتے نہیں ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو اس سے بھی زیادہ برے فرد کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس سے بھلائی کی امید نہ رکھی جائے ، اور اُس کے شر سے ( خود کو ) محفوظ نہ سمجھا جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عنبس بن میمون ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13652
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10775)»