حدیث نمبر: 13650
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَلْقَى رَجُلًا فَيَقُولُ : " يَا فُلَانُ ، كَيْفَ أَنْتَ ؟ " . فَيَقُولُ : بِخَيْرٍ ، أَحْمَدُ اللَّهَ . فَيَقُولُ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ " . فَلَقِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ : " كَيْفَ أَنْتَ يَا فُلَانُ ؟ " . قَالَ : بِخَيْرٍ إِنْ شَكَرْتُ . فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّكَ كُنْتَ تَسْأَلُنِي فَتَقُولُ : " جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ " . وَإِنَّكَ الْيَوْمَ سَكَتَّ عَنِّي ؟ فَقَالَ لَهُ : " إِنِّي كُنْتُ أَسْأَلُكَ فَتَقُولُ : بِخَيْرٍ أَحْمَدُ اللَّهَ . فَأَقُولُ : جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ ، وَإِنَّكَ الْيَوْمَ قُلْتَ : بِخَيْرٍ إِنْ شَكَرْتُ ، فَشَكَكْتَ ، فَسَكَتُّ عَنْكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُؤَمِّلِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک شخص سے ملاقات ہوئی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے فلاں ! تمہارا کیا حال ہے ؟ اس نے جواب دیا : ٹھیک ہوں ، میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں ٹھیک ہی رکھے ، پھر ایک دن اس شخص کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : اے فلاں ! تمہارا کیا حال ہے ؟ اس شخص نے جواب دیا : اگر میں شکر کروں ، تو ٹھیک ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ نہیں کہا: ، اُس نے عرض کی ! اے اللہ کے نبی ! پہلے آپ نے مجھ سے حال پوچھا: تھا ، تو آپ نے یہ فرمایا تھا : اللہ تعالیٰ تمہیں ٹھیک رکھے ! اور آج آپ نے کچھ ارشاد نہیں فرمایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے فرمایا : پہلے جب میں نے تم سے پوچھا: تھا ، تو تم نے یہ کہا: تھا : ٹھیک ہوں ، اور میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہوں ، تو میں نے یہ کہہ دیا تھا : اللہ تعالیٰ تمہیں ٹھیک رکھے ! اور آج تم نے یہ کہا: ہے : اگر میں شکر کروں ، تو ٹھیک ہے ، تو تم نے شک کا اظہار کیا ، تو میں بھی خاموش رہا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف مؤمل بن اسماعیل کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13650
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (241/3)»