مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنِ احْتَقَرَ مَا قُدِّمَ إِلَيْهِ باب: اس شخص کا بیان ، جو اس چیز کو حقیر سمجھے ، جو اس کے سامنے پیش کی جائے
وَعَنْ أَبِي عَوَانَةَ أَنَّهُ قَالَ : صَنَعْتُ طَعَامًا ، فَدَعَوْتُ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشَ ، فَبَلَغَنِي عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ وَضَّاحًا دَعَانَا عَلَى عِرْقٍ عَامِرٍ وَرُمَّانٍ حَامِضٍ ، قَالَ : فَلَقِيتُ رَقَبَةَ بْنَ مَصْقَلَةَ ، فَشَكَوْتُهُ إِلَيْهِ فَقَالَ : أَكْفِيكَ . فَلَقِيَهُ فَقَالَ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، دَعَاكَ أَخٌ مِنْ إِخْوَانِنَا فَأَكْرَمَكَ ثُمَّ تَقُولُ : عَلَى عِرْقٍ عَامِرٍ وَرُمَّانٍ حَامِضٍ ؟ ! أَمَا وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُكَ إِلَّا شَرِسَ الطَّبِيعَةِ ، دَائِمَ الْقُطُوُبِ ، سَرِيعَ الْمَلَلِ ، مُسْتَخِفًّا بِحَقِّ الزَّوْرِ ، كَأَنَّكَ تُسْعَطُ الْخَرْدَلَ إِذَا سُئِلْتَ الْحِكْمَةَ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤ابوعوانہ بیان کرتے ہیں : میں نے کھانا تیار کیا ، میں نے سلیمان اعمش کو بلایا ، اُن کے بارے میں مجھے یہ اطلاع ملی کہ انہوں نے یہ فرمایا : وضاح نے ہمیں گری ہوئی ( یعنی بغیر گوشت والی ) ہڈی اور کچے انار کے لیے بلایا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : میری ملاقات رقبہ بن مصلقہ سے ہوئی ، میں نے ان کے سامنے اس بارے میں شکایت کی ، تو انہوں نے فرمایا : میں تمہاری جگہ کفایت کر لوں گا ، پھر ان کی سلیمان اعمش سے ملاقات ہوئی ، تو انہوں نے کہا: اے ابومحمد ! ہمارے ایک بھائی نے تمہاری دعوت کی اور تمہاری عزت افزائی کی اور تم نے یہ کہہ دیا : کہ گری ہوئی ہڈی اور ایک کچے انار پر دعوت ہوئی ہے ، اللہ کی قسم ! تمہارے بارے میں تو مجھے یہی پتہ ہے کہ تم بری طبیعت کے مالک ہو ، تمہارا مزاج ہمیشہ خراب رہتا ہے ، جلدی اکتاہٹ کا شکار ہو جاتے ہو ، ملاقات کے حق کی تخفیف کرتے ہو ، تم گویا ایسے ہو کہ جب تم سے حکمت کی بات پوچھی جائے تو تم ناک میں رائی کا دانہ ڈال لیتے ہو ۔