مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ الزِّيَارَةِ وَإِكْرَامِ الزَّائِرِينَ باب: کسی سے ملنے کے لئے جانا ، اور ملنے کے لئے آنے والوں کا احترام کرنا
حدیث نمبر: 13596
وَعَنْ أُمِّ نُجَيْدٍ أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِينَا فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، فَأَتَّخِذُ لَهُ سَوِيقًا فِي قَعْبَةٍ ، فَإِذَا جَاءَ سَقَيْتُهُ إِيَّاهَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ . ¤محمد محی الدین
سیدہ ام نجید رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس بنو عمرو بن عوف کے محلے میں تشریف لائے ، میں نے آپ کے لیے برتن میں ستو تیار کیے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو وہ میں نے آپ کو پینے کے لئے پیش کیے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، تاہم ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے ۔