مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ الزِّيَارَةِ وَإِكْرَامِ الزَّائِرِينَ باب: کسی سے ملنے کے لئے جانا ، اور ملنے کے لئے آنے والوں کا احترام کرنا
حدیث نمبر: 13595
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُؤَاخِي بَيْنَ الِاثْنَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَتَطُولُ عَلَى أَحَدِهِمَا اللَّيْلَةُ حَتَّى يَلْقَى أَخَاهُ ، فَيَلْقَاهُ بِوُدٍّ وَلُطْفٍ فَيَقُولُ : كَيْفَ كُنْتَ بَعْدِي ؟ وَأَمَّا الْعَامَّةُ ، فَلَمْ يَكُنْ يَأْتِي عَلَى أَحَدِهِمَا ثَلَاثٌ لَا يَعْلَمُ عِلْمَ أَخِيهِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب میں سے کسی ایک کو دوسرے کا بھائی قرار دے دیتے تھے ، تو ان میں سے کسی ایک کے لئے رات طویل ہو جاتی تھی ، اور پھر وہ محبت اور مہربانی کے ہمراہ اپنے بھائی سے ملتا تھا ، اور یہ دریافت کرتا تھا ۔ میرے بعد تم کیسے رہے ؟ لیکن اب عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ دو افراد میں سے کسی ایک پر تین دن گزر جاتے ہیں ، اور اُسے اپنے بھائی کے بارے میں کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عمران بن خالد خزاعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔