مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُهُ قُبَالَةَ بَابِي ، وَالْآخَرُ شَاسِعٌ عَنْ بَابِي وَهُوَ أَقْرَبُ فِي الْجُدُرِ ، فَبِأَيِّهِمَا أَبْدَأُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ابْدَئِي بِالَّذِي بَابُهُ قُبَالَةَ بَابِكِ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ ، وَالطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُوَيْدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . باب: پڑوسی کا حق اور پڑوسی کے بارے میں وصیت ( یعنی تلقین )
وَعَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَكُونُ لِي جَارَانِ أَحَدُهُمَا بَابُهُ قُبَالَةَ بَابِي ، وَالْآخَرُ شَاسِعٌ عَنْ بَابِي وَهُوَ أَقْرَبُ فِي الْجُدُرِ ، فَبِأَيِّهِمَا أَبْدَأُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ابْدَئِي بِالَّذِي بَابُهُ قُبَالَةَ بَابِكِ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ ، وَالطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُوَيْدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے دو پڑوسی ہیں ، ان دونوں میں سے ایک کا دروازہ میرے دروازے کے بالکل سامنے ہے ، اور دوسرے کا دروازہ میرے دروازے سے کچھ ہٹ کے ہے ، لیکن اُس کی دیوار زیادہ قریب ہے ، تو مجھے اُن دونوں میں سے کس سے آغاز کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اُس سے آغاز کرو ! جس کا دروازہ تمہارے دروازے کے بالکل سامنے ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، روایت کے الفاظ امام أحمد کے اور معجم اوسط میں امام طبرانی کے نقل کردہ ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی عوید بن ابوعمران ہیں اور وہ متروک ہے ۔