مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُهُ قُبَالَةَ بَابِي ، وَالْآخَرُ شَاسِعٌ عَنْ بَابِي وَهُوَ أَقْرَبُ فِي الْجُدُرِ ، فَبِأَيِّهِمَا أَبْدَأُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ابْدَئِي بِالَّذِي بَابُهُ قُبَالَةَ بَابِكِ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ ، وَالطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُوَيْدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . باب: پڑوسی کا حق اور پڑوسی کے بارے میں وصیت ( یعنی تلقین )
حدیث نمبر: 13549
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي جَارَيْنِ فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي ؟ قَالَ : " إِلَى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَسْعَدَةُ بْنُ الْيَسَعِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے دو پڑوسی ہیں ، میں اُن میں سے کے تحفہ بھیجوں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ان میں سے جس کا دروازہ تمہارے زیادہ قریب ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی مسعدہ بن یسع ہے اور وہ کذاب ہے ۔