حدیث نمبر: 13547
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : كُنْتُ مَرَّةً فِي أَرْضٍ قَطَعَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي سَلَمَةَ وَالزُّبَيْرِ مِنْ أَرْضِ النَّضِيرِ ، فَخَرَجَ الزُّبَيْرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَنَا جَارٌ مِنَ الْيَهُودِ ، فَذَبَحَ شَاةً فَطُبِخَتْ ، فَوَجَدْتُ رِيحَهَا فَدَخَلَنِي مِنْ رِيحِ اللَّحْمِ مَا لَمْ يَدْخُلْنِي مِنْ شَيْءٍ قَطُّ ، وَأَنَا حَامِلٌ بِابْنَةٍ لِي تُدْعَى خَدِيجَةَ ، فَلَمْ أَصْبِرْ ، فَانْطَلَقْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى امْرَأَتِهِ أَقْتَبِسُ مِنْهَا نَارًا لَعَلَّهَا تُطْعِمُنِي ، وَمَا بِي مِنْ حَاجَةٍ إِلَى النَّارِ ، فَلَمَّا شَمَمْتُ رِيحَهُ وَرَأَيْتُهُ ازْدَدْتُ شَرَهًا ، فَأَطْفَأْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ الثَّانِيَةَ أَقْتَبِسُ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ الثَّالِثَةَ ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ قَعَدْتُ أَبْكِي وَأَدْعُو اللَّهَ ، فَجَاءَ زَوْجُ الْيَهُودِيَّةِ فَقَالَ : أَدَخَلَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ ؟ قَالَتْ :لَا إِلَّا الْعَرَبِيَّةُ دَخَلَتْ تَقْتَبِسُ نَارًا . قَالَ : فَلَا آكُلُ مِنْهَا أَبَدًا أَوْ تُرْسِلِي إِلَيْهَا مِنْهَا . فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ بِقُدْحَةٍ ، وَلَمْ يَكُنْ فِي الْأَرْضِ شَيْءٌ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْ تِلْكَ الْأَكْلَةِ . قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ : الْقُدْحَةُ : الْغَرْفَةُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیده اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ میں ایک ایسی جگہ پر موجود تھی ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو عطا کی تھی ، وہ نضیر قبیلے کی زمین تھی ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے ہوئے تھے ، ہمارا ایک یہودی پڑوسی تھا ، اس نے بکری ذبح کی اور اس کا گوشت پکایا ، مجھے اس کی خوشبو محسوس ہوئی ، تو گوشت کی بو کی وجہ سے میری وہ حالت ہو گئی ، جو اور کسی چیز کی وجہ سے نہیں ہوئی تھی ، میں اس وقت اپنی اس بیٹی کے حوالے سے حاملہ تھی ، جس کا نام خدیجہ ہے ، مجھ سے صبر نہیں ہوا ، میں گی اور اس شخص کی بیوی سے میں نے آگ مانگی ، میرا مقصد یہ تھا کہ وہ مجھے کچھ کھانے کے لیے دیدے گی ، مجھے آگ کی ضرورت نہیں تھی ، جب میں نے گوشت کی بو دوبارہ سونگھی اور اسے دیکھا ، تو میری حالت اور زیادہ خراب ہو گئی ، میں نے اس آگ کو بجھایا اور دوسری مرتبہ اس سے آگ لینے کے لئے گئی ، چند مرتبہ ایسا ہوا ، جب میں نے یہ صورت حال دیکھی ، تو میں بیٹھ کر رونے لگی ، اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے لگی ، جب اس عورت کا شوہر گھر آیا ، تو اس نے کہا: کیا تمہارے ہاں کوئی آیا تھا ؟ اس عورت نے جواب دیا : جی نہیں ! البتہ ایک عربی عورت آئی تھی ، جو آگ لینے کے لئے آئی تھی ، تو اس شخص نے کہا: میں اس گوشت کو اُس وقت تک نہیں کھاؤں گا ، جب تک تم اس میں سے کچھ اُس عورت کو نہیں بھجواؤ گی ، تو اس عورت نے مجھے ایک پیالا بھیجا ، اُس وقت میرے نزدیک روئے زمین کی کوئی چیز اس کھانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں تھی ۔ ابن بکیر بیان کرتے ہیں : لفظ قدحہ کا مطلب سالن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13547
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (103/24)»