مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ حَقِّ الْجَارِ وَالْوَصِيَّةِ بِالْجَارِ باب: پڑوسی کا حق اور پڑوسی کے بارے میں وصیت ( یعنی تلقین )
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا حَقُّ جَارِي عَلَيَّ؟ ؟ قَالَ : " إِنْ مَرِضَ عُدْتَهُ ، وَإِنْ مَاتَ شَيَّعْتَهُ ، وَإِنِ اسْتَقْرَضَكَ أَقْرَضْتَهُ ، وَإِنْ أَعْوَزَ سَتَرْتَهُ ، وَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ هَنَّأْتَهُ ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ عَزَّيْتَهُ ، وَلَا تَرْفَعْ بِنَاءَكَ فَوْقَ بِنَائِهِ فَتَسُدَّ عَلَيْهِ الرِّيحَ ، وَلَا تُؤْذِهِ بِرِيحِ قِدْرِكَ إِلَّا أَنْ تَغْرِفَ لَهُ مِنْهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا معاویہ بن حیده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پڑوسی کا مجھ پر کیا حق ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر وہ بیمار ہو جائے ، تو تم اُس کی عیادت کرو ، اگر وہ انتقال کر جائے تو تم جنازے کے ساتھ جاؤ ، اگر وہ تم سے قرض مانگے ، تو تم اُسے قرض دو ، اگر اس کی حالت خراب ہو ، تو تم اُس کی پردہ پوشی کرو ، اگر اسے کوئی بھلائی نصیب ہو ، تو تم اُسے مبارکباد دو ، اگر اسے کوئی مصیبت لاحق ہو ، تو تم اس سے تعزیت کرو ، تم اپنی تعمیر کو اس کی تعمیر سے بلند کر کے اس کی ہوا کو بند نہ کر دو ، اور تم اپنی ہنڈیا کی بو کے ذریعے اسے اذیت نہ پہنچاؤ ، البتہ اگر تم اپنے سالن ( یا اس ہنڈیا ) میں سے کچھ اُسے دے دو ، تو حکم مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔