مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ حَقِّ الْجَارِ وَالْوَصِيَّةِ بِالْجَارِ باب: پڑوسی کا حق اور پڑوسی کے بارے میں وصیت ( یعنی تلقین )
حدیث نمبر: 13544
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْجَدْعَاءِ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ يَقُولُ : " أُوصِيكُمْ بِالْجَارِ " . حَتَّى أَكْثَرَ ، فَقُلْتُ : إِنَّهُ يُوَرِّثُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا : حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی ” جدعاء “ پر سوار تھے اور یہ ارشاد فرما رہے تھے : ” میں تمہیں پڑوسی کے بارے میں تلقین کرتا ہوں ۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اتنی زیادہ مرتبہ ارشاد فرمائی کہ میں نے یہ سوچا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُسے وارث قرار دیدیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔