مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَيْتَامِ وَالْأَرَامِلِ وَالْمَسَاكِينِ باب: یتیموں ، بیواؤں اور غریبوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْيَتِيمُ يُمْسَحُ رَأْسُهُ هَكَذَا " . وَوَصَفَ صَالِحٌ أَنَّهُ وَضَعَ كَفَّهُ عَلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ مِمَّا يَلِي جَبْهَتَهُ ، ثُمَّ أَصْعَدَهَا إِلَى وَسَطِ رَأْسِهِ ، ثُمَّ أَحْدَرَهَا إِلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ أَوْ إِلَى جَبْهَتِهِ . " وَمَنْ كَانَ لَهُ أَبٌ هَكَذَا " . وَوَصَفَ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ الْغُلَامُ يَتِيمًا فَامْسَحُوا رَأْسَهُ هَكَذَا - إِلَى قُدَّامَ - وَإِذَا كَانَ لَهُ أَبٌ فَامْسَحُوا رَأْسَهُ هَكَذَا - إِلَى خَلْفٍ مِنْ مُقَدَّمِهِ - " . وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَقَدْ ذَكَرُوا هَذَا مِنْ مَنَاكِيرِ حَدِيثِهِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یتیم کے سر پر اس طرح ہاتھ پھیرا جائے گا“ ۔ اس کے بعد صالح نامی راوی نے یہ طریقہ کر کے دکھایا کہ انہوں نے اپنی ہتھیلی سر کے اگلے والے حصے پر رکھی ، جو پیشانی کے قریب ہوتا ہے اور پھر وہ اُسے لے کر سر کے درمیانی حصے تک چلے گئے ، پھر وہ اسے سر کے اگلے حصے تک ، یا پیشانی تک واپس لے کے آئے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ) ” جس شخص کا باپ موجود ہو ، اُس شخص کے ساتھ اس طرح کیا جائے گا ۔ “ انہوں نے اپنی ہتھیلی سر کے اگلے حصے پر پیشانی کے قریب والی جگہ پر رکھی اور پھر وہ اسے سر کے درمیانی حصے تک لے گئے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بچہ یتیم ہو ، تو تم اُس کے سر پر اس طرح آگے کی طرف ہاتھ پھیرو اور جب اس کا باپ موجود ہو ، تو تم اس کے سر پر اس طرح ، آگے سے پیچھے کی طرف ہاتھ پھیرو“ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان ہے ، لوگوں نے اس روایت کا ذکر اس کی نقل کردہ منکر احادیث میں کیا ہے ۔