مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَادِمِ باب: خادم کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13531
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لِلْمَمْلُوكِ عَلَى سَيِّدِهِ ثَلَاثُ خِصَالٍ : لَا يُعْجِلُهُ عَنْ صَلَاتِهِ ، وَلَا يُقِيمُهُ عَنْ طَعَامِهِ ، وَيُشْبِعُهُ كُلَّ الْإِشْبَاعِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ ضَعِيفٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ الْإِحْسَانُ إِلَى الْخَادِمِ فِي كِتَابِ الْعِتْقِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” غلام کے اپنے آقا پر تین حق ہوتے ہیں ، یہ کہ نماز کے حوالے سے وہ اُسے جلدی کا شکار نہ کرے ، اور کھانا کھاتے ہوئے اسے نہ اُٹھائے اور اُسے مکمل طور پر سیر ہو کر کھانا کھلائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ، اور ایک راوی عبدالصمد بن علی ہے جو ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے کتاب ” العتق “ میں خادم کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے بارے میں احادیث گزر چکی ہیں ۔