مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَيْتَامِ وَالْأَرَامِلِ وَالْمَسَاكِينِ باب: یتیموں ، بیواؤں اور غریبوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، ذَكَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ قَبَضَ يَتِيمًا بَيْنَ مُسْلِمِينَ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ إِلَّا أُدْخِلُ الْجَنَّةَ الْبَتَّةَ ، إِلَّا أَنْ يَعْمَلَ ذَنْبًا لَا يُغْفَرُ ، وَمَنْ أُخِذَتْ كَرِيمَتَاهُ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ ، لَمْ يَكُنْ لَهُ ثَوَابٌ إِلَّا الْجَنَّةَ " . قِيلَ : وَمَا كَرِيمَتَاهُ ؟ قَالَ : " عَيْنَاهُ " . قَالَ : " وَمَنْ عَالَ ثَلَاثَ بَنَاتٍ عَلَّمَهُنَّ وَزَوَّجَهُنَّ وَأَحْسَنَ أَدَبَهُنَّ ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ : أَوِ اثْنَتَيْنِ ؟ قَالَ : " أَوِ اثْنَتَيْنِ " . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هَذَا مِنْ كَرَائِمِ الْحَدِيثِ وَغُرَرِهِ . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَنَشُ بْنُ قَيْسٍ الرَّحَبِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات ذکر کرتے ہیں : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” جو بھی مسلمان شخص کسی مسلمان ماں باپ کے یتیم بچے کو اپنے کھانے اور پینے میں ساتھ شامل کر لیتا ہے ، تو وہ لازمی طور پر جنت میں داخل ہو گا ، البتہ ایسی صورت میں حکم مختلف ہے ، جب اس نے کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کیا ، ہو جس کی مغفرت نہ ہو سکتی ہو ، اور جس شخص کی دو پسندیدہ چیزیں لے لی جائیں اور وہ صبر سے کام لے اور ثواب کی امید رکھے ، اس کے لئے جنت کے علاوہ اور کوئی ثواب نہیں ہے ، عرض کی گی : اس کی دو پسندیدہ چیزوں سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی دونوں آنکھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : جو شخص تین بیٹیوں کی کفالت کرتا ہے اور ان پر خرچ کرتا ہے اور ان کی شادی کروا دیتا ہے اور ان کی اچھی تربیت کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں داخل کرے گا ، دیہاتیوں میں سے ایک شخص نے عرض کی : اگر دو ( بیٹیاں ) ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر دو ہوں ( تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا ) ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : یہ بہترین اور لاجواب احادیث میں سے ایک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حنش بن قیس رحبی ہے اور وہ متروک ہے ۔