مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَيْتَامِ وَالْأَرَامِلِ وَالْمَسَاكِينِ باب: یتیموں ، بیواؤں اور غریبوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ - وَجَمَعَ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى - وَالسَّاعِي عَلَى الْيَتِيمِ وَالْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالصَّائِمِ الْقَائِمِ لَا يَفْتُرُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا شخص ، جنت میں ان دو ( انگلیوں ) کی طرح ہوں گے “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی کو ملا کر یہ بات ارشاد فرمائی ( اور پھر مزید فرمایا : ) ” یتیم ، یا بیوہ ، یا غریب کی دیکھ بھال کرنے والا ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ایسے شخص کی مانند ہے ، جو روزہ بھی رکھتا ہو ، نوافل بھی پڑھتا ہو اور ان کے درمیان کوئی وقفہ نہ کرے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔