مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَيْتَامِ وَالْأَرَامِلِ وَالْمَسَاكِينِ باب: یتیموں ، بیواؤں اور غریبوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13510
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ خَثْعَمَ فَقَالَ : " كَيْفَ تَجِدِينَكِ ؟ " . فَقَالَتْ : لَا أُرَانِي إِلَّا لِمَا بِي مَيِّتَةٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَدِدْتُ أَنَّكِ لَمْ تَخْرُجِي مِنَ الدُّنْيَا حَتَّى تَكْفُلِي يَتِيمًا ، أَوْ تُجَهِّزِي غَازِيًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نُفَيْعٌ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے ہاں تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : تمہیں اپنا آپ کیسا محسوس ہوتا ہے ؟ اس نے عرض کی : میں اپنے بارے میں یہی سمجھتی ہوں کہ میں مرنے والی ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری یہ خواہش ہے کہ تم دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے کسی یتیم کی کفالت کرو ، یا کسی غازی کو سامان فراہم کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نفیع ابوداؤد اعمیٰ ہے اور وہ کذاب ہے ۔