مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي الْأَوْلَادِ وَالْأَقَارِبِ وَفَضْلِ النَّفَقَةِ عَلَيْهِمْ باب: اولاد ، قریبی رشتہ داروں ، اور ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ أُمَّتِي مِنْ أَحَدٍ يَكُونُ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ يَعُولُهُنَّ حَتَّى يَبْلُغْنَ ، إِلَّا كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا " . وَجَمَعَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى . قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ : " مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے جس بھی فرد کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں ، اور وہ اُن کی کفالت کرے ، یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائیں ، تو وہ شخص جنت میں میرے ساتھ اس طرح ہو گا “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو اکٹھا کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں یہ بات مذکور ہے : ” جو شخص دو لڑکیوں کی کفالت کرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔