مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي الْأَوْلَادِ وَالْأَقَارِبِ وَفَضْلِ النَّفَقَةِ عَلَيْهِمْ باب: اولاد ، قریبی رشتہ داروں ، اور ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 13492
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أُخْتَانِ فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُمَا [مَا صَحِبَتَاهُ] دَخَلَ بِهِمَا الْجَنَّةَ " . قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " ابْنَتَانِ " . بَدَلَ : " أُخْتَانِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس کی دو بہنیں ہوں ، اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے ، جب تک وہ دونوں اس کے ساتھ رہیں ، تو وہ ان دونوں کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جائے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے ” دو بہنوں “ کی جگہ ” دو بیٹیوں “ کا لفظ ذکر کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شرحبیل بن سعد ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔