حدیث نمبر: 13477
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ لِكُلِّ شَجَرَةٍ ثَمَرَةٌ ، وَثَمَرَةُ الْقَلْبِ الْوَلَدُ ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَرْحَمُ مَنْ لَا يَرْحَمُ وَلَدَهُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا رَحِيمٌ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُلُّنَا يَرْحَمُ . قَالَ : " لَيْسَ رَحْمَتُهُ أَنْ يَرْحَمَ أَحَدُكُمْ صَاحِبَهُ ، إِنَّمَا الرَّحْمَةُ أَنْ يَرْحَمَ النَّاسَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو مَهْدِيٍّ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ ، وَقَالَ صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ : حَدَّثَنِي أَبُو مَهْدِيٍّ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ مُؤَذِّنُ أَهْلِ حِمْصَ ، وَكَانَ ثِقَةً مَرْضِيًّا ، وَلَا يَصِحُّ إِسْنَادُ هَذِهِ الْحِكَايَةِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہر درخت کا پھل ہوتا ہے اور دل کا پھل ، اولاد ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم نہیں کرتا ، جو اپنی اولاد پر رحم نہیں کرتا ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جنت میں صرف رحم کرنے والا شخص داخل ہو گا ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم میں سے ہر ایک شخص رحم کرتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس رحمت یہ مراد نہیں ہے کہ تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے ساتھی پر رحم کرے ، بلکہ رحمت سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگوں پر رحم کرے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومہدی سعید بن سنان ہے اور وہ ضعیف اور متروک ہے ، صدقہ بن خالد بیان کرتے ہیں : ابومہدی سعید بن سنان ، جو اہل حمص کے مؤذن ہیں ، انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی اور وہ ثقہ اور پسندیدہ فرد ہیں ، راوی کہتے ہیں : اس حکایت کی سند مستند نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13477
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1889)»