مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ سَأَلَ قَرِيبَهُ فَضْلًا فَبَخِلَ عَلَيْهِ باب: اس شخص کا بیان ، جو اپنے رشتے دار سے کوئی اضافی چیز مانگتا ہے ، اور دوسرا شخص اس چیز کے حوالے سے بخل سے کام لیتا ہے
حدیث نمبر: 13475
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّمَا رَجُلٍ أَتَاهُ ابْنُ عَمِّهِ يَسْأَلُهُ مِنْ فَضْلِهِ فَمَنَعَهُ ، مَنَعَهُ اللَّهُ فَضْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ فِي الْبُيُوعِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقِرْدَوْسِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کے پاس اس کا چچا زاد آئے اور اس سے کوئی اضافی چیز مانگے اور وہ شخص اسے نہ دے ، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنا فضل اُس ( نہ دینے والے ) سے روک لے گا“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو کتاب البیوع میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن قردوسی ہے ، جسے ازدی نے اس حدیث کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے ۔