حدیث نمبر: 13474
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ ذِي رَحِمٍ يَأْتِي ذَا رَحِمَهُ ، فَيَسْأَلُهُ فَضْلًا أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ فَيَبْخَلُ عَلَيْهِ ، إِلَّا أَخْرَجَ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ جَهَنَّمَ حَيَّةً يُقَالُ لَهَا : شُجَاعٌ يَتَلَحَّظُ ، فَيُطَوَّقُ بِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو بھی شخص اپنے کسی رشتے دار کے پاس آئے اور اس سے اضافی چیز مانگے ، جو اللہ تعالیٰ نے اس دوسرے شخص کو عطا کی ہوئی ہو اور وہ شخص اُس کے حوالے سے بخل سے کام لے ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس ( بخل کرنے والے ) شخص کے لئے جہنم میں سے ایک سانپ نکالے گا ، جس کا نام ” شجاع “ ہو گا اور وہ سانپ تنگ ہو گا ( یعنی بل کھا کر سمٹے گا ) اور وہ اس شخص کو طوق کے طور پر پہنا دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13474
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2343)»