مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَقَطْعِهَا باب: رشتے داری کے حقوق کا خیال کرنا ، اور انہیں پامال کرنا
حدیث نمبر: 13466
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهَا : " إِنَّهُ مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَصِلَةِ الرَّحِمِ وَحُسْنِ الْجِوَارِ [وَحُسْنِ الْخُلُقِ] يُعَمِّرَانِ الدِّيَارَ ، وَيَزِيدَانِ فِي الْأَعْمَارِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ . ¤محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” جو شخص کو نرمی میں سے حصہ دے دیا گیا ، تو اسے دنیا و آخرت کی بھلائی میں سے اس کا حصہ دے دیا گیا ، رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھنا ، اچھا پڑوسی ہونا اور اچھے اخلاق ہونا ، بستیوں کو آباد کرتے ہیں اور عمر میں اضافہ کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف یہ ہے کہ عبدالرحمن بن قاسم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے ۔