مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَقَطْعِهَا باب: رشتے داری کے حقوق کا خیال کرنا ، اور انہیں پامال کرنا
حدیث نمبر: 13465
وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُمَدَّ لَهُ فِي عُمْرِهِ ، وَيُوَسَّعَ عَلَيْهِ فِي رِزْقِهِ ، وَيُدْفَعَ عَنْهُ مِيتَةُ السُّوءِ ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ اُس کی عمر زیادہ ہو اس کے رزق میں کشادگی ہو اور اس سے بری موت کو پرے کر دیا جائے ، اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے اور رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے ۔ “
یہ روایت عبدالله بن أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عاصم بن ضمرہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔