مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَقَطْعِهَا باب: رشتے داری کے حقوق کا خیال کرنا ، اور انہیں پامال کرنا
حدیث نمبر: 13457
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ لَيُعَمِّرُ بِالْقَوْمِ الدِّيَارَ ، وَيُثْمِرُ لَهُمُ الْأَمْوَالَ ، وَمَا نَظَرَ إِلَيْهِمْ مُنْذُ خَلَقَهُمْ بُغْضًا لَهُمْ " . قِيلَ : وَكَيْفَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بِصِلَتِهِمْ أَرْحَامَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کے علاقے کو آباد کرتا ہے اور انہیں اموال عطا کرتا ہے ، اور اس نے جب سے انہیں پیدا کیا ہے کبھی ان کی طرف غصے نہیں دیکھا ہو گا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیونکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ رشتے کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔