مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَقَطْعِهَا باب: رشتے داری کے حقوق کا خیال کرنا ، اور انہیں پامال کرنا
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ ، مِنْ قَطِيعَةِ الرَّحِمِ وَالْخِيَانَةِ وَالْكَذِبِ . وَإِنَّ أَعْجَلَ الْبِرِّ ثَوَابًا لَصِلَةُ الرَّحِمِ ، حَتَّى إِنَّ أَهْلَ الْبَيْتِ لَيَكُونُوا فَقُرَاءَ فَتَنْمُو أَمْوَالُهُمْ وَيَكْثُرُ عَدَدُهُمْ إِذَا تَوَاصَلُوا " . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الْأَنْطَاكِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی بھی گناہ رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے ، خیانت کرنے اور جھوٹ بولنے کے مقابلے میں ، اس بات کا زیادہ لائق نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے مرتکب شخص کو ( دنیا میں ) جلدی سزا دیدے اور اس کے ہمراہ آخرت میں اس کے لئے عذاب تیار رکھے ، اور جس نیکی کا سب سے زیادہ جلدی اجر و ثواب ملتا ہے ، وہ صلہ رحمی ہے ، یہاں تک کہ کسی گھرانے کے لوگ غریب ہوتے ہیں اور پھر اُن کے اموال زیادہ ہو جاتے ہیں اور ان کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے ، جبکہ وہ رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن موسیٰ ابوعثمان انطاکی کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔