حدیث نمبر: 13440
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الرَّحِمَ شَجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ تَقُولُ : يَا رَبِّ إِنِّي قُطِعْتُ يَا رَبِّ إِنِّي أُسِيءَ إِلَيَّ ، يَا رَبِّ إِنِّي ظُلِمْتُ ، يَا رَبِّ يَا رَبِّ . فَيُجِيبُهَا : أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ ؟ " . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” رحم ( یعنی رشتے داری ) رحمان ( کے فضل ) کا ایک حصہ ہے ، وہ ( یعنی رحم ) یہ کہتا ہے : اے میرے پروردگار ! مجھے کاٹ دیا گیا ہے ، اے میرے پروردگار ! میرے ساتھ برا سلوک کیا گیا ، اے میرے پروردگار ! میرے ساتھ ظلم کیا گیا ، اے میرے پروردگار ! اے میرے پروردگار ! ( یعنی یہ ہوا اور وہ ہوا ) تو پروردگار اسے جواب دیتا ہے : ” کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ جو تمہیں ملا کے رکھے گا ، میں اُسے ملا دوں گا اور جو تمہیں کاٹے گا ، میں اُسے کاٹ دوں گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عبدالجبار نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13440
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (7918)»