مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ وَقَطْعِهَا باب: رشتے داری کے حقوق کا خیال کرنا ، اور انہیں پامال کرنا
عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثٌ مُتَعَلِّقَاتٌ بِالْعَرْشِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : الرَّحِمُ تَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي بِكَ فَلَا أُقْطَعُ . وَالْأَمَانَةُ تَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي بِكَ فَلَا أُخَانُ . وَالنِّعْمَةُ تَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي بِكَ فَلَا أُكْفَرُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحَبِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ . ¤سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن تین چیزیں عرش کے ساتھ لپٹی ہوئی ہوں گی ، رشتے داری ، جو یہ کہے گی : اے اللہ ! بے شک میں تیری وجہ سے ہوں تو مجھے کاٹا نہ جائے ، امانت ، جو یہ کہے گی : اے اللہ ! میں تیری مدد سے ہوں ، تو میرے حوالے سے خیانت نہ کی جائے ، اور نعمت ، جو یہ کہے گی : اے اللہ ! میں تیری مدد سے ہوں ، تو میرا انکار ( یا ناشکری ) نہ کی جائے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے اور وہ متروک ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : مجھے امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔