مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعُقُوقِ باب: ( والدین کی ) نافرمانی کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ جَابِرِ [بْنِ عَبْدِ اللَّهِ] قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ مُجْتَمِعُونَ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ ، اتَّقُوا اللَّهَ وَصِلُوا أَرْحَامَكُمْ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ ثَوَابٍ أَسْرَعُ مِنْ صِلَةِ الرَّحِمِ ، وَإِيَّاكُمْ وَعُقُوقَ الْوَالِدَيْنِ فَإِنَّ رِيحَ الْجَنَّةِ يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَلْفِ عَامٍ ، وَاللَّهِ لَا يَجِدُهَا عَاقٌّ وَلَا قَاطِعُ رَحِمٍ ، وَالْبَغْيُ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ عُقُوبَةٍ أَسْرَعُ مِنْ عُقُوبَةِ بَغْيٍ [وَلَا قَاطِعِ رَحِمٍ] ، وَلَا شَيْخٍ زَانٍ ، وَلَا جَارٍّ إِزَارَهُ خُيَلَاءَ ، إِنَّمَا الْكِبْرِيَاءُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، وَالْكَذِبُ كُلُّهُ إِثْمٍ إِلَّا مَا نَفَعْتَ بِهِ مُؤْمِنًا وَدَفَعْتَ بِهِ عَنْ ذَنْبٍ ، وَإِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَسُوقًا مَا يُبَاعُ فِيهَا وَلَا يُشْتَرَى ، لَيْسَ فِيهَا إِلَّا الصُّوَرُ ، فَمَنْ أَحَبَّ صُورَةً مِنْ رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ دَخَلَ فِيهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم اکٹھے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے مسلمانوں کے گروہ ! تم اللہ سے ڈرو اور صلہ رحمی کرو ، کیونکہ کسی بھی چیز کا ثواب صلہ رحمی سے زیادہ جلدی نہیں ملتا اور تم ماں باپ کی نافرمانی سے بچ کے رہو ، کیونکہ جنت کی خوشبو ایک ہزار سال کی مسافت سے محسوس ہو جاتی ہے ، لیکن اللہ کی قسم ! والدین کا نافرمان یا رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے والا شخص ، یا زانی ، اُس کو نہیں پا سکیں گے ، کسی بھی گناہ کی سزا ، سرکشی ( یعنی زنا ) ، یا رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے سے زیادہ جلدی نہیں ملتی ، اور بوڑھا زانی ، یا تکبر کے طور پر اپنے تہبند کو لٹکانے والا شخص ( اس کی خوشبو نہیں پا سکیں گے ) کیونکہ کبریائی ، اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اور جھوٹ سارے کا سارا گناہ ہے ، البتہ اس جھوٹ کا معاملہ مختلف ہے ، جس کے ذریعے تم کسی مومن کو نفع پہنچاؤ ، یا جس کے ذریعے تم کسی گناہ کو پرے کر دو ، جنت میں ایک بازار ہے ، جس میں کوئی خرید و فروخت نہیں ہو گی ، اس میں صرف تصویریں لگی ہوئی ہوں گی ، جو ( مرد یا عورت ) جس بھی مرد یا عورت کی تصویر کو پسند کرے گا ، اُس میں داخل ہو جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں محمد بن کثیر کے حوالے جابر جعفی سے نقل کی ہے اور یہ دونوں انتہائی ضعیف ہیں ۔