کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ( والدین کی ) نافرمانی کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13429
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، شَهِدْتُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، وَصَلَّيْتُ الْخَمْسَ ، وَأَدَّيْتُ زَكَاةَ مَالِي ، وَصُمْتُ [شَهْرَ] رَمَضَانَ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ مَاتَ عَلَى هَذَا كَانَ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَكَذَا - وَنَصَبَ إِصْبَعَيْهِ - مَا لَمْ يَعُقَّ وَالِدَيْهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ وَرِجَالُ أَحَدِ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں ، میں پانچ نمازیں ادا کرتا ہوں ، میں اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرتا ہوں ، میں رمضان کے مہینے کے روزے رکھتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص ایسی حالت میں مر جائے ، وہ قیامت کے دن انبیاء صدیقین اور شہداء کے ساتھ اس طرح ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیاں کھڑی کر کے ارشاد فرمایا ( اور پھر فرمایا : ) جبکہ وہ اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرتا ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13429
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 13430
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا : عُقُوقُ الْأُمَّهَاتِ ، وَوَأْدُ الْبَنَاتِ ، وَمَنْعٌ وَهَاتِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے ، تمہارے لئے تین چیزوں کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے ، ماؤں کی نافرمانی کرنا ، بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا اور ” منع“ ( یعنی اپنے پاس موجود چیز کو صدقہ نہ کرنا ) اور ” ہات “ ( یعنی دوسرے سے مانگتے ہوئے یہ کہنا : مجھے دو ! ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13430
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (226/20)»
حدیث نمبر: 13431
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثَةٌ قَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْجَنَّةَ : مُدْمِنُ الْخَمْرِ ، وَالْعَاقُّ ، وَالدَّيُّوثُ الَّذِي يُقِرُّ فِي أَهْلِهِ الْخَبَثَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین قسم کے لوگوں پر ، اللہ تعالیٰ نے جنت کو حرام قرار دیا ہے ، باقاعدگی سے شراب پینے والا ( والدین کا ) نافرمان اور وہ بے شرم شخص جو اپنی بیوی کے بارے میں خباثت کو برقرار رکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13431
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (5372)»
حدیث نمبر: 13432
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ ، وَمُدْمِنُ الْخَمْرِ ، وَالْمَنَّانُ عَطَاءَهُ . وَثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ : الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ وَالدَّيُّوثُ وَالرَّجُلَةُ " . وَفِي رِوَايَةٍ : " الْمَرْأَةُ الْمُتَرَجِّلَةُ تَشَبَّهُ بِالرِّجَالِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین قسم کے لوگوں کی طرف ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر نہیں کرے گا ، اپنے ماں باپ کا نافرمان ، باقاعدگی سے شراب پینے والا شخص ، اور کچھ دے کر احسان جتانے والا شخص ، اور تین قسم کے لوگ جنت میں داخل نہیں ہوں گے ، اپنے ماں باپ کا نافرمان ، دیوث ، اور رجلہ ( یعنی مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والی عورت ) ۔ “ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ عورت جو مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرتے ہوئے مردانہ وضع قطع اختیار کرتی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13432
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1876 و 1875) اخرجه احمد فى المسند (6180)»
حدیث نمبر: 13433
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَاهُ آتٍ فَقَالَ : شَابٌّ يَجُودُ بِنَفْسِهِ . قِيلَ لَهُ : قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ : فَلَمْ يَسْتَطِعْ ، فَقَالَ : " كَانَ يُصَلِّي ؟ " . فَقَالَ : نَعَمْ : فَنَهَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَهَضْنَا مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَى الشَّابِّ فَقَالَ لَهُ : " قُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . فَقَالَ : لَا أَسْتَطِيعُ . قَالَ : " لِمَ ؟ " . قَالَ : كَانَ يَعُقُّ وَالِدَيْهِ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَحَيَّةٌ وَالِدَتُهُ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " ادْعُوهَا " . فَدَعَوْهَا فَجَاءَتْ ، فَقَالَ : " هَذَا ابْنُكِ ؟ " . فَقَالَتْ : نَعَمْ . فَقَالَ لَهَا : " أَرَأَيْتِ لَوْ أُجِّجَتْ نَارٌ ضَخْمَةٌ فَقِيلَ لَكِ : إِنْ شَفَعْتِ لَهُ خَلَّيْنَا عَنْهُ وَإِلَّا حَرَقْنَاهُ بِهَذِهِ النَّارِ ، أَكُنْتِ تَشْفَعِينَ لَهُ ؟ " . قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذًا أَشْفَعُ . قَالَ : " فَأَشْهِدِي اللَّهَ وَأَشْهِدِينِي أَنَّكِ قَدْ رَضِيتِ عَنْهُ " . فَقَالَتِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ وَأُشْهِدُ رَسُولَكَ أَنِّي قَدْ رَضِيتُ عَنِ ابْنِي . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا غُلَامُ قُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . فَقَالَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ [بِي] مِنَ النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَفِيهِ فَائِدٌ أَبُو الْوَرْقَاءِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، ایک شخص آپ کے پاس آیا اور اس نے بتایا : ایک نوجوان ہے ، جو آخری سانسیں لے رہا ہے ، اس سے کہا: گیا : تم لا الہ الا اللہ پڑھو ، تو وہ یہ ( کلمہ ) نہیں پڑھ سکا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ نماز پڑھا کرتا تھا ؟ اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ، آپ کے ساتھ ہم بھی اُٹھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس نوجوان کے پاس تشریف لائے ، آپ نے اس سے فرمایا : تم لا الہ الا اللہ پڑھو ! اُس نے کہا: میں یہ نہیں پڑھ سکتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : وہ شخص اپنے والدین کا نافرمان تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا اس کی ماں زندہ ہے ؟ لوگوں نے بتایا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اُسے بلا کر لاؤ ! وہ لوگ اس خاتون کو بلا کے لائے ، وہ آئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا یہ تمہارا بیٹا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے دریافت کیا : اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ کہ اگر آگ سلگائی جائے اور پھر تم سے یہ کہا: جائے : کہ اگر تم اس بچے کی سفارش کرو گی ، تو ہم اسے چھوڑ دیں گے ، ورنہ ہم اسے اس آگ میں جلا دیں گے ، تو کیا تم اس کی سفارش کر دو گی ؟ اس عورت نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایسی صورت میں ، میں سفارش کر دوں گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم اللہ کو اور مجھے گواہ بنا کر یہ کہو : کہ تم اس سے راضی ہو ، اس عورت نے کہا: اے اللہ ! میں تجھے گواہ بناتی ہوں اور تیزے رسول کو گواہ بناتی ہوں کہ میں اپنے بیٹے سے راضی ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس نوجوان سے کہا: اے لڑکے ! اب تم پڑھو : اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، تو اس نوجوان نے وہ کلمہ پڑھ لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے میرے ذریعے اس کو جہنم سے نجات عطا کر دی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فائد ابوورقاء ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13433
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 13434
وَعَنْ أَبِي غَسَّانَ الضَّبِيِّ قَالَ : خَرَجْتُ أَمْشِي مَعَ أَبَى بِظَهْرِ الْحَرَّةِ ، فَلَقِيَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قُلْتُ : أَبِي . قَالَ : لَا تَمْشِ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَلَكِنِ امْشِ خَلْفَهُ أَوْ إِلَى جَانِبِهِ ، وَلَا تَدَعْ أَحَدًا يَحُولُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ ، وَلَا تَمْشِ فَوْقَ إِجَارٍ أَبُوكَ تَحْتَهُ ، وَلَا تَأْكُلْ مَا قَدْ نَظَرَ أَبُوكَ إِلَيْهِ لَعَلَّهُ قَدِ اشْتَهَاهُ . ثُمَّ قَالَ : أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خِدَاشٍ ؟ قُلْتُ : لَا . قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " فَخَدُّهُ فِي جَهَنَّمَ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَضِرْسُهُ مِثْلُ الْبَيْضَاءِ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَقُلْتُ : وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " كَانَ عَاقًّا لِوَالِدَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَبُو غَسَّانَ وَأَبُو غَنْمٍ الرَّاوِي عَنْهُ لَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوغسان ضبی بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ چلتا ہوا پتھریلی سرزمین پر جا رہا تھا ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مجھ سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : یہ کون ہیں ؟ میں نے جواب دیا : یہ میرے والد ہیں ، انہوں نے فرمایا : تم ان کے آگے نہ چلنا ، بلکہ ان کے پیچھے چلنا ، یا ان کے ایک طرف چلنا اور تم کسی شخص کو اپنے اور ان کے درمیان حائل نہ ہونے دینا اور تم کسی ایسی بلند جگہ پر نہ چلنا کہ تمہارے والد اُس سے نیچے ہوں ، اور تم کوئی ایسی چیز نہ کھانا ، جسے تمہارے والد دیکھ رہے ہوں ، کیونکہ ہو سکتا ہے انہیں اس کی خواہش ہو ، پھر انہوں نے فرمایا : کیا تم عبداللہ بن خراش کو جانتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جہنم میں اُس کا رخسار احد پہاڑ جتنا ہو گا اور اس کی داڑھی بیضاء پہاڑ جتنی ہو گی ۔ “ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیونکہ وہ شخص اپنے والدین کا نافرمان تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ابوغسان نامی راوی اور اس سے روایت کرنے والا شخص ابوغنم ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13434
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13435
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُرَاحُ رِيحُ الْجَنَّةِ مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ ، وَلَا يَجِدُ رِيحَهَا مَنَّانٌ بِعَمَلِهِ ، وَلَا عَاقٌّ ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت کی بو ، پانچ سو سال کی مسافت سے محسوس ہو جاتی ہے ، لیکن اُسے وہ شخص نہیں پا سکے گا ، جو احسان جتانے والا ہو ، یا والدین کا نافرمان ہو ، یا باقاعدگی سے شراب پینے والا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13435
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (408)»
حدیث نمبر: 13436
وَعَنْ جَابِرِ [بْنِ عَبْدِ اللَّهِ] قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ مُجْتَمِعُونَ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ ، اتَّقُوا اللَّهَ وَصِلُوا أَرْحَامَكُمْ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ ثَوَابٍ أَسْرَعُ مِنْ صِلَةِ الرَّحِمِ ، وَإِيَّاكُمْ وَعُقُوقَ الْوَالِدَيْنِ فَإِنَّ رِيحَ الْجَنَّةِ يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَلْفِ عَامٍ ، وَاللَّهِ لَا يَجِدُهَا عَاقٌّ وَلَا قَاطِعُ رَحِمٍ ، وَالْبَغْيُ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ عُقُوبَةٍ أَسْرَعُ مِنْ عُقُوبَةِ بَغْيٍ [وَلَا قَاطِعِ رَحِمٍ] ، وَلَا شَيْخٍ زَانٍ ، وَلَا جَارٍّ إِزَارَهُ خُيَلَاءَ ، إِنَّمَا الْكِبْرِيَاءُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، وَالْكَذِبُ كُلُّهُ إِثْمٍ إِلَّا مَا نَفَعْتَ بِهِ مُؤْمِنًا وَدَفَعْتَ بِهِ عَنْ ذَنْبٍ ، وَإِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَسُوقًا مَا يُبَاعُ فِيهَا وَلَا يُشْتَرَى ، لَيْسَ فِيهَا إِلَّا الصُّوَرُ ، فَمَنْ أَحَبَّ صُورَةً مِنْ رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ دَخَلَ فِيهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم اکٹھے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے مسلمانوں کے گروہ ! تم اللہ سے ڈرو اور صلہ رحمی کرو ، کیونکہ کسی بھی چیز کا ثواب صلہ رحمی سے زیادہ جلدی نہیں ملتا اور تم ماں باپ کی نافرمانی سے بچ کے رہو ، کیونکہ جنت کی خوشبو ایک ہزار سال کی مسافت سے محسوس ہو جاتی ہے ، لیکن اللہ کی قسم ! والدین کا نافرمان یا رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے والا شخص ، یا زانی ، اُس کو نہیں پا سکیں گے ، کسی بھی گناہ کی سزا ، سرکشی ( یعنی زنا ) ، یا رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنے سے زیادہ جلدی نہیں ملتی ، اور بوڑھا زانی ، یا تکبر کے طور پر اپنے تہبند کو لٹکانے والا شخص ( اس کی خوشبو نہیں پا سکیں گے ) کیونکہ کبریائی ، اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اور جھوٹ سارے کا سارا گناہ ہے ، البتہ اس جھوٹ کا معاملہ مختلف ہے ، جس کے ذریعے تم کسی مومن کو نفع پہنچاؤ ، یا جس کے ذریعے تم کسی گناہ کو پرے کر دو ، جنت میں ایک بازار ہے ، جس میں کوئی خرید و فروخت نہیں ہو گی ، اس میں صرف تصویریں لگی ہوئی ہوں گی ، جو ( مرد یا عورت ) جس بھی مرد یا عورت کی تصویر کو پسند کرے گا ، اُس میں داخل ہو جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں محمد بن کثیر کے حوالے جابر جعفی سے نقل کی ہے اور یہ دونوں انتہائی ضعیف ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13436
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً