مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ . باب: آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو نہ کرنا
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ : سَمِعْتُ هِنْدَ بِنْتَ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ تُحَدِّثُ عَنْ عَمَّتِهَا . قَالَتْ : جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَائِدًا لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَقَدَّمْنَا إِلَيْهِ ذِرَاعَ شَاةٍ فَأَكَلَ ، وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَتَمَضْمَضَ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طُرُقٍ ، وَبَعْضُهَا رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا هِنْدَ بِنْتَ سَعِيدٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهَا ابْنُ حِبَّانَ . ¤عمرو بن محمد بن عمرو بن سعد بن معاذ بیان کرتے ہیں : میں نے ہند بنت سعید بن سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو اپنی پھوپھی کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہوئے سنا ہے : وہ خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے تشریف لائے ، تو ہم نے آپ کی خدمت میں بکری کی دستی کا گوشت پیش کیا ، آپ نے اُسے کھا لیا ، نماز کا وقت ہوا ، تو آپ نے کلی کر کے دوبارہ وضو کیے بغیر نماز ادا کر لی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف طرق کے حوالے سے نقل کی ہے ، جن میں سے بعض کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں ، البتہ ہند بنت سعید نامی خاتون کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے انہیں ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔