مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ . باب: آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو نہ کرنا
وَعَنْ عَمْرَةَ بِنْتَ حِزَامٍ ، أَنَّهَا " جَعَلَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صُورِ نَخْلٍ كَنَسَتْهُ وَطَيَّبَتْهُ ، وَذَبَحَتْ لَهُ شَاةً فَأَكَلَ مِنْهَا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَصَلَّى الظُّهْرَ فَقَدَّمَتْ إِلَيْهِ مِنْ لَحْمِهَا ، وَصَلَّى الْعَصْرَ ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدہ عمرہ بنت حزام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھجور کے باغ میں صفائی کر کے جگہ تیار کی ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بکری ذبح کروائی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کا گوشت کھایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کر کے ظہر کی نماز ادا کی ، اس خاتون نے آپ کی خدمت میں اس بکری کا گوشت پیش کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ وضو کیے بغیر عصر کی نماز ادا کر لی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ثابت بنانی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔