مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبِرِّ وَحَقِّ الْوَالِدَيْنِ باب: اچھائی اور والدین کے حق کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِرُّوا آبَاءَكُمْ تَبَرُّكُمْ أَبْنَاؤُكُمْ ، وَعِفُّوا تَعِفَّ نِسَاؤُكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ أَحْمَدَ غَيْرَ مَنْسُوبٍ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ مِنَ الْمُكْثِرِينَ مِنْ شُيُوخِهِ فَلِذَلِكَ لَمَّ يَنْسُبْهُ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو ! تمہاری اولاد تمہارے ساتھ اچھا سلوک کرے گی ، تم لوگ پاکدامن رہو ، تمہاری عورتیں پاکدامن رہیں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام طبرانی کے استاد أحمد کا معاملہ مختلف ہے ، جس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا گیا ہے بظاہر یہ لگتا ہے ، یہ ان افراد میں سے ایک ہے جن سے امام طبرانی نے بکثرت روایات نقل کی ہیں اور شاید اسی وجہ سے انہوں نے اس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔