حدیث نمبر: 13402
وَعَنْ نُعَيْمٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ : خَرَجَ ابْنُ عُمَرَ حَاجًّا ، حَتَّى كَانَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، أَتَى شَجَرَةً فَعَرَفَهَا ، فَجَلَسَ تَحْتَهَا ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ شَابٌّ مِنْ هَذِهِ الشُّعْبَةِ ، حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي جِئْتُ لِأُجَاهِدَ مَعَكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ . فَقَالَ : " أَبَوَاكَ حَيَّانِ كِلَاهُمَا ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَارْجِعْ فَبِرَّهُمَا " . فَانْفَتَلَ رَاجِعًا مِنْ حَيْثُ جَاءَ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِنْ كَانَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ نَاعِمًا وَهُوَ الصَّحِيحُ ، وَإِنْ كَانَ نُعَيْمًا فَلَمْ أَعْرِفْهُ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْجِهَادِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام ، نعیم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حج کے لئے روانہ ہوئے ، مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان وہ کسی درخت کے پاس آئے ، انہوں نے اس درخت کو پہچان لیا اور پھر اس کے نیچے بیٹھ گئے ، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے دیکھا ، اس دوران ایک گھاٹی میں سے ایک نوجوان شخص سامنے آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ٹھہر گیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس لئے آیا ہوں ، تاکہ آپ کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لوں اور میں اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور آخرت کے اجر و ثواب کا حصول چاہتا ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہارے ماں باپ دونوں زندہ ہیں ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم واپس چلے جاؤ اور ان دونوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، تو وہ شخص واپس اسی طرف چلا گیا جہاں سے وہ آیا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس اور ثقہ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، اگر ناعم نامی شخص سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام ہو اور یہ روایت صحیح ہو گی اور اگر وہ نعیم ہو ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی کچھ احادیث ، جہاد سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13402
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (5724) اخرجه احمد فى المسند (6525)»