مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ عَجَائِبِ الْمَخْلُوقَاتِ باب: مخلوقات کے عجائب کا بیان
حدیث نمبر: 13380
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى خَلَقَ رِيحًا وَأَسْكَنَهَا بَيْتًا وَأَغْلَقَ عَلَيْهَا بَابًا ، فَلَوْ فَتَحَ ذَلِكَ الْبَابَ لَأَذْرَتْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، وَمَا يَأْتِيكُمْ فَإِنَّمَا يَأْتِيكُمْ مِنْ خَلَلِ ذَلِكَ الْبَابِ ، وَأَنْتُمْ تُسَمُّونَهَا الْجَنُوبَ ، وَهِيَ عِنْدَ اللَّهِ الْأَذِيبَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عِيَاضِ بْنِ جَعْدَةَ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے ہوا کو پیدا کیا اور اسے ایک گھر میں ٹھہرایا اور اس کا دروازہ بند کر دیا ، اگر اس دروازے کو کھول دیا جائے ، تو وہ ( یعنی ہوا ) آسمان اور زمین میں موجود ہر چیز کو اڑا دے ، وہ تمہارے پاس ( مکمل طور پر ) نہیں آتی ہے ۔ وہ تمہارے پاس صرف دروازے کی جھری میں سے آتی ہے ، اور تم لوگ اسے ” جنوب “ کا نام دیتے ہو ، اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ” اذیب“ ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عیاض بن جعدہ ہے اور وہ کذاب ہے ۔