حدیث نمبر: 13344
وَعَنِ الْعَجَّاجِ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ مَا تَقُولُ فِي هَذَا : ¤ طَافَ الْخَيَالَانِ فَهَاجَا سَقَمًا خَيَالُ سَلْمَى وَخَيَالٌ تَكَتَّمَا قَامَتْ تُرِيكَ رَهْبَةً أَنْ تَصْرِمَا ¤ سَاقًا بَخَنْدَاةً وَكَعْبًا أَدْرَمَا فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : كُنَّا نَنْشُدُ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا يَعِيبُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ رَفِيعِ بْنِ سَلَمَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

عجاج بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : اس شعر کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں : ” دو طرح کے خیالات چکر لگا رہے ہیں جنہوں نے بیماری کو بڑھا دیا ہے ، سلمیٰ کا خیال اور ایک خیال جو پوشیدہ ہے ، وہ اس لیے کھڑی ہوئی ہے کہ تمہیں اس بات سے ڈرائے کہ وہ موٹی پنڈلی اور کمزور ٹخنے کو کاٹ دے گی ۔ “ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ شعر سنایا کرتے تھے ، تو آپ اس پر اعتراض نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد رفیع بن سلمہ کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13344
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2111)»