حدیث نمبر: 13331
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : لَمَّا هَجَانَا الْمُشْرِكُونَ شَكَوْنَا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " قُولُوا لَهُمْ كَمَا يَقُولُونَ لَكُمْ " . قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نُعَلِّمُهُ إِمَاءَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . وَزَادَ الطَّبَرَانِيُّ فِيهِ : قَالَ : بَيْنَا رَجُلٌ يُنْشِدُ هِجَاءً لِمُعَاوِيَةَ وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَعَمَّارٌ يَسْمَعُهُ ، فَقَالَ عَمَّارٌ : الزَّقُّ بِالْعَجُوزَيْنِ . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، أَيَقُولُ هَذَا ؟ أَيَقُولُ هَذَا ؟ وَأَنْتُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ : اجْلِسْ ، فَاسْمَعْ أَوِ اذْهَبْ . ثُمَّ قَالَ عَمَّارٌ : إِنَّا لَمَّا هَجَانَا الْمُشْرِكُونَ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِطُرُقٍ ، وَأَحَدُهَا رِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب مشرکین نے ہماری ہجو کی ، تو ہم نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بھی ان کے بارے میں اسی طرح کہو ، جس طرح وہ تمہارے بارے میں کہتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : تو مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ ہم لوگ مدینہ منورہ کی کنیزوں کو ( مشرکین کی ہجویہ شاعری ) سکھایا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔ امام طبرانی نے اس روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہجو کے بارے میں شعر سنا رہا تھا ، اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اس کو سن رہے تھے ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ بوڑھی عورتوں کو سکھاؤ ! تو اس شخص نے ان سے کہا: سبحان اللہ ! کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں ، کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں ، جبکہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم بیٹھ جاؤ اور سنو ، یا چلے جاؤ ! پھر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب مشرکین ہماری ہجو کرتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13331
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2097) اخرجه احمد فى المسند (263/4)»