حدیث نمبر: 1331
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ فَاطِمَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَكَلَ عَرْقًا ، فَجَاءَ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ فَقَامَ لِيُصَلِّيَ ، فَأَخَذْتُ بِثَوْبِهِ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَتَوَضَّأُ ؟ فَقَالَ : " مِمَّ أَتَوَضَّأُ يَا بُنَيَّةُ ؟ " فَقُلْتُ : مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ، فَقَالَ : " أَوَلَيَسَ أَطْيَبُ طَعَامِكُمْ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ؟ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أَوَلَيْسَ أَطْهَرُ طَعَامِكُمْ " ، وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ وُلِدَ بَعْدَ وَفَاةِ فَاطِمَةَ ، وَالْحَدِيثُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین

حسن بن ابوالحسن بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی والا گوشت کھایا ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ کو بلانے کے لیے آئے ، تو آپ نماز ادا کرنے کے لیے اُٹھ گئے ، میں نے آپ کا کپڑا پکڑا ، اور میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ وضو نہیں کریں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے میری بیٹی ! میں کس وجہ سے وضو کروں ؟ میں نے عرض کی : آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کی وجہ سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تمہارا سب سے زیادہ پاکیزہ کھانا وہ نہیں ہوتا ، جو آگ پر پکا ہو ؟ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ لفظ نقل کیا ہے : ” سب سے زیادہ پاک کھانا “ ۔ حسن بن ابوالحسن نامی راوی کی پیدائش ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد ہوئی تھی اور
یہ روایت ” منقطع “ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1331
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع۔