مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشِّعْرِ وَالشُّعَرَاءِ باب: شعر اور شاعروں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّهُ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْفَتْحِ وَحُنَيْنَ وَالطَّائِفَ ، وَكَانَ رَجُلًا شَاعِرًا فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفْتِنِي فِي الشِّعْرِ . فَقَالَ : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ مَا بَيْنَ لُبَّتِكَ إِلَى عَانَتِكَ قَيْحًا ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، امْسَحْ عَلَى رَأْسِي . فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي ، فَمَا قُلْتُ بَعْدَ ذَلِكَ بَيْتَ شِعْرٍ . وَلَقَدْ عُمِّرَ مَالِكٌ حَتَّى شَابَ رَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ ، وَمَا شَابَ مَوْضِعُ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ وَقَالَ : " قَيْحًا وَصَدِيدًا " . وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا مالک بن عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ فتح مکہ ، غزوہ حنین اور غزوہ طائف میں شرکت کی ہے ۔ وہ ایک شاعر شخص تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے شعر کے بارے میں حکم بیان کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری گردن سے لے کے تمہاری ناف کے نچلے حصے تک کی جگہ پیپ سے بھر جائے ، یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شاعری سے بھری ہو ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے سر پر ہاتھ پھیریے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد میں نے کبھی شعر کا ایک مصرعہ بھی نہیں کہا: ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا مالک بن عمیر رضی اللہ عنہ کی عمر طویل ہوئی تھی ، یہاں تک کہ ان کے سر کے اور داڑھی کے تمام بال سفید ہو گئے تھے ، لیکن وہ مقام سفید نہیں ہوا تھا جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک رکھا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” پیپ اور خون آلود پیپ ۔ “ اس روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔