حدیث نمبر: 13298
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ إِبْلِيسَ لَمَّا أُنْزِلَ إِلَى الْأَرْضِ قَالَ : يَا رَبِّ أَنْزَلْتَنِي إِلَى الْأَرْضِ وَجَعَلْتَنِي رَجِيمًا - أَوْ كَمَا ذَكَرَ - فَاجْعَلْ لِي بَيْتًا . قَالَ : بَيْتُكَ الْحَمَّامُ . قَالَ : فَاجْعَلْ لِي مَجْلِسًا . قَالَ : الْأَسْوَاقُ وَمَجَامِعُ الطُّرُقِ . قَالَ : اجْعَلْ لِي طَعَامًا . قَالَ : طَعَامُكَ مَا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ . قَالَ : اجْعَلْ لِي شَرَابًا . قَالَ : كُلُّ مُسْكِرٍ . قَالَ : اجْعَلْ لِي مُؤَذِّنًا . قَالَ : الْمَزَامِيرُ . قَالَ : اجْعَلْ لِي قُرْآنًا . قَالَ : الشِّعْرُ . قَالَ : اجْعَلْ لِي كِتَابًا . قَالَ : الْوَسْمُ . قَالَ : اجْعَلْ لِي حَدِيثًا . قَالَ : الْكَذِبُ . قَالَ : اجْعَلْ لِي مَصَايِدَ . قَالَ : النِّسَاءُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَ لِهَذَا طُرُقٌ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب ابلیس کو زمین کی طرف اتارا گیا تو اس نے عرض کی : اے میرے پروردگار تو نے مجھے زمین کی طرف اتار دیا ہے ، اور تو نے مجھے مردود بنا دیا ہے ، تو میرے لئے کوئی گھر بنا دے ! پرودگار نے فرمایا : تمہارا گھر حمام ہو گا ، اس نے کہا: تو میرے لئے کوئی مجلس بنا دے ، پروردگار نے فرمایا : وہ بازار اور راستے ہوں گے ، اس نے کہا: تو میرے لئے کھانا مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : تمہارا کھانا وہ ہو گا جس پر اللہ کا نام ذکر نہیں کیا گیا ہو گا ، اس نے کہا: تو میرے لئے مشروب مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : ہر نشہ آور چیز اس نے کہا: تو میرے لئے اعلان کرنے والا مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : آلات موسیقی ، اس نے کہا: تو میرے لئے پڑھی جانے والی چیز مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : شاعری ، اس نے کہا: تو میرے لے تحریر مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : داغ لگانا ، اس نے کہا: تو میرے لئے بات مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : جھوٹ ، اس نے کہا: تو میرے لے پھانسنے کے آلات مقرر کر دے ، پروردگار نے فرمایا : عورتیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے کتاب الایمان میں اس کے مختلف طرق گزر چکے ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13298
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7837)»