حدیث نمبر: 13281
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ : كَانَ لِي إِلَى أَبِي سَعْدٍ . وَعَنْ مُجَمِّعٍ قَالَ : كَانَ لِعُمَرَ بْنِ سَعْدٍ إِلَى أَبِيهِ حَاجَةٌ ، فَقَدَّمَ بَيْنَ يَدَيْ حَاجَتِهِ كَلَامًا مِمَّا يُحَدِّثُ النَّاسُ ، يَتَوَصَّلُونَ بِهِ ، لَمْ يَكُنْ سَعْدٌ يَسْمَعُهُ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ : يَا بُنَيَّ ، قَدْ فَرَغْتَ مِنْ كَلَامِكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : مَا كُنْتُ مِنْ حَاجَتِكَ أَبْعَدُ ، وَلَا كُنْتُ فِيكَ أَزْهَدُ مِنِّي مُنْذُ سَمِعْتُ كَلَامَكَ ( هَذَا ) سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " سَيَكُونُ قَوْمٌ يَأْكُلُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ كَمَا تَأْكُلُ الْبَقَرُ مِنَ الْأَرْضِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ مِنْ طُرُقٍ وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَأَحْسَنُهَا مَا رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ قَوْمٌ يَأْكُلُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ كَمَا تَأْكُلُ الْبَقَرُ بِأَلْسِنَتِهَا " . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سَعِدٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

عمر بن سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں : مجھے اپنے والد سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے ایک کام تھا ، مجمع نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ عمر بن سعد کو اپنے والد سے ایک کام تھا ۔ انہوں نے اپنے والد کے سامنے اپنے کام کا ذکر کرتے ہوئے ایسا کلام ذکر کیا کہ جو لوگوں میں ان دنوں بعد میں رواج پذیر ہوا تھا جو مقفع و مسجع ہوتا تھا ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے وہ کلام پہلے نہیں سنا تھا ، جب وہ صاحب کلام کر کے فارغ ہوئے ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بیٹے تم اپنے کلام سے فارغ ہو گئے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہاری ضرورت سے زیادہ دور نہیں تھا ، اور نہ ہی تم اپنی ذات کے بارے میں مجھ سے زیادہ بے رغبت ہو ، جب میں نے تمہارا یہ کلام سنا ( تو مجھے اس پر یاد آیا ) کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوے سنا ہے : ” عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی زبانوں کے ذریعے یوں کھائیں گے جس طرح زمین سے گائے کھاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے مختلف طرق کے حوالوں سے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اس میں سب سے زیادہ عمدہ روایت وہ ہے ، جسے امام أحمد نے زید بن اسلم کے حوالے سے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک ایسی قوم نہیں آ جائے گی جو اپنی زبانوں کے حوالے سے یوں کھائیں گے جس طرح گائے اپنی زبان کے حوالے سے کھاتی ہے ۔ “ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یہ ہے کہ زید بن اسلم نامی راوی نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13281
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2081 و 2080) اخرجه احمد فى المسند (1597 و 1517)»