مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ أَنْ يَقُولَ : مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا باب: اس بات کی ممانعت کہ آدمی یہ کہے : ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَمُطِرْنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ مَطَرًا شَدِيدًا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَدْرُونَ بِمَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَهَا ثَلَاثًا وَعَادُوا ، قَالَ : " قَالَ رَبُّكُمْ : إِنَّ الَّذِي قَالَ : مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَقَدْ كَفَرَ بِي وَآمَنَ بِذَلِكَ النَّجْمِ ، وَإِنَّ مَنْ يَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ سَقَانَا فَقَدْ آمَنَ بِي وَكَفَرَ بِذَلِكَ النَّجْمِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزِّنْجِيُّ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمْ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حدیبیہ کے دن ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، اس رات شدید بارش ہوئی ، جب صبح ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو تمہارے پروردگار نے جو ارشاد فرمایا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی اور لوگوں نے یہی جواب دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا پروردگار یہ فرماتا ہے : جو شخص یہ کہتا ہے کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے ۔ وہ میرا انکار کرتا ہے اور اس ستارے پر ایمان رکھتا ہے ، اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سیراب کیا ہے ، وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہے اور وہ اس ستارے کا انکار کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔