مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ أَنْ يَقُولَ : مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا باب: اس بات کی ممانعت کہ آدمی یہ کہے : ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے
عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهَا فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَ هَذِهِ الْجَزِيرَةَ مِنَ الشِّرْكِ ، وَلَكِنْ أَخَافُ أَنْ تُضِلَّهُمُ النُّجُومُ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، كَيْفَ تُضِلَّهُمُ النُّجُومُ " . قَالَ : " يَنْزِلُ الْغَيْثُ فَيَقُولُونَ : مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَإِسْنَادُ أَبِي يَعْلَى حَسَنٌ . ¤سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف رخ کر کے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو شرک سے لاتعلق کر دیا ہے ، لیکن مجھے یہ اندیشہ ہے کہ ستارے ان لوگوں کو گمراہی کا شکار کر دیں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ستارے کیسے انہیں گمراہی کا شکار کر دیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بارش نازل ہو گی تو لوگ یہ کہیں گے فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ کی سند حسن ہے ۔