مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ . باب: آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو نہ کرنا
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكَلَ ذِرَاعًا ، فَلَمَّا فَرَغَ أَمَرَّ أَصَابِعَهُ عَلَى الْجِدَارِ ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمَكِّيُّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُمَا ، وَلَهُ طَرِيقٌ آخَرُ ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ نے دستی کا گوشت کھایا ، جب آپ فارغ ہوئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں دیوار پر پھیر لیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ وضو کیے بغیر عصر اور مغرب کی نمازیں ادا کیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے عمرو بن قیس مکی نے ابراہیم بن محمد بن خالد بن زبیر سے نقل کیا ہے ، میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، یہ روایت ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے ، جس میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ کذاب ہے ۔