مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ . باب: آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو نہ کرنا
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَغَرَفَتْ لَهُ - أَوْ قَرَّبَتْ لَهُ - عَرْقًا ، فَوَضَعَتْهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ غَرَفَتْ أَوْ قَرَّبَتْ آخَرَ ، فَوَضَعَتْهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَكَلَ ، ثُمَّ أَتَى الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ : الْوُضُوءَ الْوُضُوءَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا الْوُضُوءُ عَلَيْنَا مِمَّا خَرَجَ ، وَلَيْسَ عَلَيْنَا مِمَّا يَدْخُلُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، وَهُمَا ضَعِيفَانِ لَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِهِمَا . ¤سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ، تو انہوں نے ہڈی والا گوشت آپ کی خدمت میں پیش کیا ، وہ انہوں نے آپ کے سامنے رکھا ، پھر مزید پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھا لیا ، پھر مؤذن آیا تو اس نے کہا: آپ وضو کر لیں ، آپ وضو کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہم پر وضو کرنا اس چیز کے حوالے سے لازم ہوتا ہے ، جو ( جسم میں اندر سے ) باہر آتی ہے ، اس چیز کی وجہ سے لازم نہیں ہوتا ، جو ( باہر سے جسم کے ) اندر جاتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اُسے عبیداللہ بن زحر نے علی بن یزید سے نقل کیا ہے ، یہ دونوں راوی ضعیف ہیں اور ان دونوں سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔