مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي وَسْمِ الدَّوَابِّ باب: جانوروں کو داغ لگانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13241
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : وَسَمَ الْعَبَّاسُ بَعِيرًا لَهُ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَهَلَّا فِي غَيْرِ الْوَجْهِ ؟ " . فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَسِمُ إِلَّا فِي آخِرِ عَظْمٍ مِنْهُ . فَوَسَمَ فِي الْجَاعِرَتَيْنِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ شَيْخِهِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ خَالِدٍ الطَّحَّانِ وَلَمْ أَعْرِفْ إِسْمَاعِيلَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اونٹ کے چہرے پر داغ لگایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : آپ نے چہرے کے علاوہ کسی جگہ پر کیوں نہیں لگایا ، تو انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اب میں صرف اس کی سب سے پیچھے والی ہڈی پر ہی داغ لگاؤں گا ، تو انہوں نے دم کے پاس ابھری ہوئی ہڈی پر داغ لگایا ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد اسماعیل کے حوالے سے خالد طحان سے نقل کی ہے ، میں اسماعیل سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔