مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي وَسْمِ الدَّوَابِّ باب: جانوروں کو داغ لگانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ : مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَعِيرٍ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " لَوْ أَنَّ أَهْلَ هَذَا الْبَعِيرِ عَزَلُوا النَّارَ عَنْ هَذِهِ الدَّابَّةِ " . فَقُلْتُ : لَأَسِمَنَّ فِي أَبْعَدِ مَكَانَ مِنْ وَجْهِهَا . قَالَ : فَوَسَمْتُ فِي عَجَبِ الذَّنَبِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ وَزَادَ فِي أَوَّلِهِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الْوَسْمِ أَنْ يُوسَمَ فِي الْوَجْهِ ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . ¤سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک اونٹ گزرا ، جس کے چہرے پر داغ لگایا گیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر اس اونٹ والے لوگ اس جانور سے آگ کو الگ کر دیتے تو زیادہ مناسب تھا ، راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: میں اس کے چہرے سے سب سے زیادہ دور حصے پر داغ لگایا کروں گا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو میں نے دم کے قریب ابھرے ہوئے حصے پر نشان لگانا شروع کیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نشان لگانے سے منع کیا ہے یہ کہ چہرے پر نشان لگایا جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باقی روایت حسب سابق ہے ۔