مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الضَّرْبِ عَلَى الْوَجْهِ وَالنَّهْيِ عَنْ سَبِّهِ باب: چہرے پر مارنے کی ممانعت اور چہرے کو برا کہنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 13220
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُقَبِّحُوا الْوَجْهَ ، فَإِنَّ ابْنَ آدَمَ خُلِقَ عَلَى صُورَةِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْحَاقَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيَّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چہرے کو قبیح قرار نہ دو کیونکہ انسان کی تخلیق رحمان کی صورت کے مطابق ہوئی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسحاق بن اسماعیل طالقانی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔